فهرس الكتاب

الصفحة 417 من 432

حبان رحمۃ اللہ علیہ اور البزار رحمۃ اللہ علیہ نے موضوع کہا ہے اور علامہ ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسے موضوعات [1] میں ذکر کیا ہے۔ یہاں یہ بات بھی پیش نگاہ رہے کہ علامہ ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ نے روح بن غطیف اور نوح بن ابی مریم ابو عصمہ دونوں واسطوں سے روایت موضوعات میں ذکر کی ہے۔ اور علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے اللٓالیء المصنوعہ [2] میں دونوں اسانید سے روایت ذکر کر کے علامہ ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ کی تائید کی ہے۔بلکہ یہ بھی کہا ہے: 'نوح کذاب' ''کہ نوح جھوٹا راوی ہے۔'' اسی طرح کشف الخفاء [3] ، تنزیہ الشریعۃ [4] میں بھی اسے ذکر کر کے موضوع قرار دیا گیاہے۔ علامہ علی قاری المصنوع رحمۃ اللہ علیہ [5] میں فرماتے ہیں: 'فیہ نوح کذاب ھکذا فی اللآلیء ' ''اس میں نوح کذاب ہے جیسا کہ اللٓالیء المصنوعہ میں ہے۔'' تذکرۃ الموضوعات [6] میں علامہ طاہر پٹنی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: 'فیہ نوح کذاب' ''اس میں نوح ابو عصمہ کذاب ہے۔'' علامہ شوکانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: 'والمتھم بہ نوح بن أبی مریم' ''اس میں نوح بن ابی مریم متہم ہے۔'' [7] علامہ محمد بن خلیل الطرابلسی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اللؤلؤ المرصوع فیمالاأصل لہ وبأصلہ موضوع [8] میں اسے 'لا أصل لہ' کہا کہ اس کی کوئی اصل نہیں۔'' علامہ علی قاری مزید لکھتے ہیں:

(( قال النووی فی شرح خطبۃ مسلم إنہ حدیث ذکرہ البخاری فی تاریخہ وھو حدیث باطل لا أصل لہ عند أھل الحدیث ) ) [9]

''علامہ نووی رحمۃ اللہ علیہ نے مسلم کے خطبہ کی شرح میں کہا ہے: اس کو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تاریخ میں ذکر کیا ہے اور وہ باطل ہے، اہلِ حدیث کے نزدیک اس کی کوئی اصل نہیں۔ ''

[2] اللآلیء المصنوعۃ: 3/2.

[3] کشف الخفاء، رقم: 1000.

[4] تنزیہ الشریعۃ: 66/2.

[5] المصنوع: 71.

[6] تذکرۃ الموضوعات: 33.

[7] الفوائد المجموعۃ رقم: 2.

[8] اللؤلؤ: 18.

[9] الموضوعات الکبیر: 160.

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت