علامہ نووی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ کلام شرح مقدمہ مسلم [1] میں دیکھا جا سکتا ہے۔ امام ابن عدی رحمۃ اللہ علیہ نے جب یہی روایت ابو طیب عن ابی عصمہ عن یزید عن الزہری کی سند سے ذکر کی تو ساتھ ہی ابو طیب کا یہ قول بھی ذکر کیا ہے۔
(( ھذا لایدری من ھو، وقدروی ھذا عن غیر ھذا الطریق عن الزہری وھذا وذاک لیسا بمحفوظین ) ) [2]
''یہ نہیں پہنچانا جاتا کہ وہ کون ہے۔ یہ بلاشبہ اس کے علاوہ ایک اور سند سے بھی زہری رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے،مگر یہ اور وہ دونوں سندوں سے محفوظ نہیں ہیں۔''
جس سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ محدثین کرام ابو عصمہ کے طریق سے واقف تھے اور اس پر تعجب کا اظہار کرتے تھے کہ یہ اصلًا تو روح بن غطیف کی سند سے معروف ہے۔ نوح ابو عصمہ سارق الحدیث ہے اور ایک راوی کی روایت کو دوسرے راوی کے نام سے روایت کر دیتا تھا۔امام ابن عدی رحمۃ اللہ علیہ نے ہی ایک اور روایت 'أبوعصمہ نوح بن أبی مریم عن محمد بن المنکدر عن جابر' کی سند سے نقل کی ہے اور کہا ہے یہ حدیث دراصل 'حجاج بن أرطاۃ عن محمد بن المنکدر'سے ہے شاید نوح ابو عصمہ نے اس سے سرقہ کیا ہے۔ ان کے الفاظ ہیں:
(( وھذا یعرف بالحجاج بن أرطاۃ عن محمد بن المنکدر ولعل أبا عصمۃ سرقہ منہ ) ) [3]
بالکل اسی نوعیت کا اشارہ ابوطیب زیرِ بحث روایت کے بارے میں کر رہے ہیں، لہٰذا یہ ابو عصمہ کی سند سے ہو یا روح کی سند سے، بہر حال یہ محفوظ نہیں،بے اصل، باطل اور موضوع ہے۔ علامہ زیلعی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس کے موضوع ہونے کا اعتراف کیا ہے اور اس کا
[2] الکامل: 2507/4.
[3] الکامل: 2507/7نصب الرایۃ: 150/3.