ابوداودنے شیخ صالح ضعیف الحدیث کہا ہے۔جیسا کہ میزان میں ہے اور راوی جب
صدوق صالح ہو اپنے قصور حفظ کی وجہ سے درجہ صحیح کو نہ پہنچے، نہ مغفل کثیر الخطأ اور نہ ہی متہم بالکذب ہو اور نہ ہی کوئی اور سبب فسق ہو تو وہ حسن درجہ کا راوی ہوتا ہے، اور اس میں کوئی شک نہیں عفیر کو حفظ واتقان میں ضعف کی وجہ سے ضعیف کہا گیا ہے وہ متہم بالکذب نہیں،بلکہ ''وثقہ ابوداود'' ابوداود نے صدق وامانت میں توثیق کی ہے، لہٰذا جو وہ روایت کرتا ہے وہ تحسین سے بعید نہیں۔''
عفیر بن معدان کو حسن الحدیث بنانے کے لیے مولانا صاحب کی کوشش آپ کے سامنے ہے۔ امام ابوداود رحمۃ اللہ علیہ کے کلام میں ''شیخ صالح'' کو سمجھنا کہ ''وثقہ ابوداود'' ابوداود رحمۃ اللہ علیہ نے اسے ثقہ کہا ہے، بدترین جسارت ہے، وہ ماشاء اللہ ایسا ''ثقہ'' ہے کہ ''ضعیف الحدیث'' بھی ہے۔ کیا کسی ثقہ کی علی الاطلاق حدیث ضعیف ہوتی ہے؟ وہ اگر ''شیخ صالح'' کو الفاظ توثیق میں سے سمجھتے ہیں تو اس غلط فہمی کا ازالہ ہم پہلے کر آئے ہیں۔ امام ابوداود رحمۃ اللہ علیہ کے ضعیف الحدیث کہنے کے علاوہ اوپر آپ پڑھ آئے ہیں کہ امام ابوحاتم رحمۃ اللہ علیہ ، امام ابن معین رحمۃ اللہ علیہ نے لیس بثقۃ کہا ہے اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے منکر الحدیث،بلکہ امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ نے تو اسے 'لیس بثقۃ لایکتب حدیثہ ' کہا ۔امام ابوحاتم رحمۃ اللہ علیہ نے تو کہا ہے: کہ اس کی سلیم عن ابی امامہ کی روایات کی کوئی اصل نہیں ہے اور یہ روایت بھی اسی سند سے ہے۔ پھر لیس بثقۃ کے الفاظ متہم بالکذب اور متروک کے درجہ کے الفاظ ہیں۔ جیسا کہ خود مولانا عثمانی نے قواعد [1] میں کہا ہے ۔جن کی روایت تو استشہادًا بھی قبول نہیں چہ جائیکہ کہ اسے حسن قرار دیا جائے،مگر مولانا صاحب کی یہاں اپنی مجبوری ہے۔
2 اسی نوعیت کی ایک اور مثال دیکھئے:
(( وفی العزیزی کان صلي اللّٰهُ عليه وسلم إذا توضأ أدار الماء علی مرفقہ رواہ