الدارقطنی قال الشیخ حدیث حسن لغیرہ )) [1]
''عزیزی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب وضوء کرتے تو کہنیوں پر پانی پھیرتے اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے شیخ نے فرمایا ہے: یہ حدیث حسن لغیرہ ہے۔''
مولانا صاحب نے یہاں بھی دارقطنی کی حدیث العزیزی سے نقل کی ہے ۔ سنن دارقطنی جس کے جابجا حوالے دیتے ہیں، اس کی مراجعت شائد اس لیے مناسب نہیں سمجھی کہ اس سے یہ ''حسن لغیرہ ''قرار نہیں دی جا سکتی تھی۔کیونکہ مولانا ڈیانوی نے حاشیہ میں وضاحت کر رکھی ہے کہ
(( القاسم بن محمد بن عبد اللّٰه، قال أبوحاتم متروک، وقال أحمد لیس بشيء وقال أبوزرعۃ أحادیثہ مناکیر ) ) [2]
''قاسم بن محمد یہ روایت اپنے دادا سے بیان کرتا ہے اور امام ابن عدی رحمۃ اللہ علیہ نے تو فرمایا ہے: کہ اس کی اپنے داد سے احادیث غیر محفوظ ہیں۔''
قاسم کو امام ابوحاتم رحمۃ اللہ علیہ نے متروک،امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے لیس بشيء کہا اور ابوزرعہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اس کی احادیث منکر ہیں۔ [3]
قاسم بن محمد یہ روایت اپنے دادا سے بیان کرتا ہے اور امام ابنِ عدی نے تو فرمایا ہے: کہ اس کی اپنے دادا سے احادیث غیر محفوظ ہیں۔
امام ابوداود رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: 'لایکتب حدیثہ' لہٰذا جو راوی متروک ،لیس بشی، لایکتب حدیثہ ہو اس کی تو روایات استشہاد میں بھی قبول نہیں،مگر مولانا صاحب کی حکمت عملی یہاں بھی وہی نظر آتی ہے جس کی طرف اوپر ہم نے اشارہ کیا ہے۔
3 کنز العمال کی روایات کے ضمن میں گزرا ہے کہ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب القراء ۃ کے حوالے سے مثنی کی روایت تو مولانا صاحب نے بیان کر دی اور اس کا ضعف بھی ذکر کر
[2] التعلیق المغنی: 83/1.
[3] کامل: 35/6.