فهرس الكتاب

الصفحة 425 من 432

دیا،مگر ابن لھیعہ جو اس کا متابع ہے، اور مولانا صاحب کے نزدیک حسن الحدیث ہے،

اس کی روایت کی طرف اشارہ بھی مناسب نہیں سمجھا گیا۔ آخر کیوں؟

امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ کا قول حجت ہے

اصولِ فقہ میں ادلہ شرعیہ چار چیزیں قرار دی گئی ہیں قرآن، حدیث ،اجماع اور قیاس۔ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اقوال صحابہ میں ادلہ کی بنا پر ترجیح کے قائل ہیں اور صحابی کا فتوی مدرک بالقیاس نہ ہو تو اسے تسلیم کرتے ہیں،مگر تابعین کے بارے میں ان کا قول معروف ہے 'ھم رجال ونحن رجال' ''کہ وہ بھی آدمی ہیں اور ہم بھی آدمی ہیں۔'' [1] ظاہر الروایۃ میں امام صاحب کا یہی قول ہے ۔ [2] مزید تفصیل کا یہ محل نہیں۔

مگر مولانا عثمانی فرماتے ہیں:

(( إن قول إبراہیم حجۃ عندنا لاسیمًا فیما لایدرک بالرأی، لکونہ لسان ابن مسعود وأصحابہ ) ) [3]

''امام ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہمارے نزدیک حجت ہے بالخصوص جو مدرک بالرأی نہ ہو، کیونکہ وہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور ان کے تلامذہ کی زبان ہیں۔''

حالانکہ امام محمد کی کتاب الآثار میں کتنی مثالیں ہیں، جن میں امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ سے اتفاق نہیں کیا۔ مثلًا امام نخعی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: کہ مقتدی بقدر تشہد بیٹھا ہے اور امام کے سلام پھیرنے سے پہلے اٹھ کر چلا گیا ہے تو یہ اس کے لیے درست نہیں،جبکہ امام عطاء کہتے ہیں: یہ درست ہے یہی اس کے لیے کافی ہے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے امام عطاء کے فتوی کو ترجیح دی ہے۔ [4]

[2] کشف الأسرار: 225/3.

[3] اعلاء السنن: 115/8یہی بات انھوں نے (229,228,212/4) میں بھی کہی ہے.

[4] کتاب الآثار، رقم: 183.

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت