فهرس الكتاب

الصفحة 426 من 432

امام نخعی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: وضو کے بعد اگر کوئی ناخن کاٹ لے یا بال تراشے تو اسے پانی بہانا چاہیے، جبکہ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: پانی بہانے کی ضرورت نہیں ۔اسی کے مطابق فتوی امام رحمۃ اللہ علیہ صاحب اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کا ہے۔ [1]

امام نخعی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: جمعہ میں سلام کا جواب اور چھینک مارنے والے کے الحمد للہ کہنے پر جواب یرحمک اللہ دے سکتا ہے جبکہ امام ابن المسیب رحمۃ اللہ علیہ اس کے قائل نہیں اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے بھی امام ابن المسیب رحمۃ اللہ علیہ کے قول کو اختیار کیاہے ۔ [2]

امام نخعی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا اور ضمان بھی لی جائے گی جب کہ امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں:ضمان نہیں لی جائے گی یہی موقف امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کا ہے،ہاں اگر چوری کا مال بعینہٖ چور سے مل جائے تو اسے مالک کے سپرد کیا جائے گا۔ [3]

یہ موضوع وسیع الذیل ہے بہت سے مسائل میں یہ حضرات امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ سے اختلاف کرتے ہیں ہم نے مشتے نمونہ از خروارے یہ چند مثالیں ذکر کی ہیں ۔مولانا صاحب نے امام نخعی رحمۃ اللہ علیہ کے قول کو حجت اور اس پر مستزاد وزن بڑھانے کے لیے جو فرمایا کہ وہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور ان کے تلامذہ کی زبان ہیں۔ محض اپنے مختار قول کے تناظر میں ہے ورنہ امام ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ کے کتنے اقوال ہیں جنھیں دوسرے تابعین کے اقوال کے مقابلے میں تر ک کر دیا گیا ہے۔

صحیح بخاری میں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ایک باب 'اذا حاضت فی شہر ثلاث حیض' قائم کیا ہے کہ عورت کو ایک مہینہ میں تین حیض آسکتے ہیں۔ جس میں انھوں نے امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ کا فیصلہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اس کے بارے میں تائید ذکر کی ہے کہ عورت اپنے احوال سے باخبر، عادل اور دیندار گواہ پیش کر دے کہ مجھے ایک ماہ میں تین حیض آئے ہیں تو اس کے قول کی تصدیق کی جائے گی۔ یہ فیصلہ حنفی مسلک کے خلاف ہے مولانا عثمانی

[2] کتاب الآثار: 181.

[3] کتاب الآثار،رقم: 632.

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت