فهرس الكتاب

الصفحة 427 من 432

اسی حوالے سے رقمطراز ہیں:

(( یرد علی الحنفیۃ بأن الطھر عندھم بین الحیضین لایکون أقل من خمسۃ عشریومًا فعلی ھذا لایوجد ثلاث حیض فی شہر ولا دلیل علی خمسۃ عشریومًا إلاّ ماقال صاحب الھدایۃ: ھکذا نقل عن إبراہیم النخعی وإنہ لایعرف إلاتوقیفًا وھو لیس بحجۃ إن ثبت عنہ فإن قول التابعی لاحجۃ فیہ فکیف إذا لم یثبت، فقد قال الزیلعی غریب جدًا ، وفی حاشیۃ الھدایۃ [1] ذکر فی کشف البزدوی أن قول من بعد الصحابۃ من التابعی وسائر المجتہدین فیما لا یدرک بالرأی لیس بحجۃ ) ) [2]

''اس فیصلے سے حنفیہ پر اعتراض وارد ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک دوحیضوں کے مابین مدت کم سے کم پندرہ دن ہے،لہٰذا ایک ماہ میں تین حیض کیسے آسکتے ہیں؟ اور پندرہ دن پر سوائے صاحب ہدایہ کے اس قول کے اور کوئی دلیل نہیں کہ ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ سے یہ منقول ہے اور وہ اسے توقیفًا ہی جانتے ہیں۔ (یعنی انھوں نے اسے کسی صحابی سے اور صحابی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی سنا ہو گا۔ البنایہ) حالانکہ اگر ثابت بھی ہو تو وہ حجت نہیں کیونکہ تابعی کا قول حجت نہیں، جب وہ ثابت ہی نہیں تو حجت کیسے؟ زیلعی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے: یہ بہت غریب ہے، اور ہدایہ کے حاشیہ میں ہے کہ کشف الاسرار شرح البزدوی میں ذکر ہے کہ صحابہ کرام کے بعد کسی تابعی اور تمام مجتہدین کا قول جو مدرک بالقیاس نہ ہو حجت نہیں۔''

[2] اعلاء السنن: 246,245/1.

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت