فهرس الكتاب

الصفحة 431 من 432

ہے اس کے مقابلے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے، خاوند کی بجائے باپ زیادہ حق دار ہے۔امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کا فتوی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قول پر ہے، حالانکہ یہ مرسل ہے، حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں اور امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اسے'أخبرنی رجل عن الحسن' سے روایت کرتے ہیں لیکن مولانا اپنے اصول کے مطابق فرماتے ہیں: حسن کی مراسیل حسن ہیں اور امام صاحب نے اس سے استدلال کیا ہے لہٰذا یہ صحیح ہے۔ [1]

یہاں دیکھئے امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ جن کے بارے میں کہا گیا کہ ''وہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور ان کے اصحاب کی زبان ہیں'' اور امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ جن کا قول مولانا عثمانی کے ہاں''حجت'' ہے۔ دونوں کا قول اس لیے مقبول نہیں کہ حنفی مسلک کے موافق نہیں۔ اگر کہا جائے کہ ان کے مقابلے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے تو عرض ہے وہ مولانا صاحب کے اصول کے مطابق صحیح ہو تو ہو محدثین کے اصول پر وہ صحیح نہیں،بلکہ قاضی ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ نے یہی قول کتاب الآثار میں صرف حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کی طرف منسوب کیا ہے،حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف نہیں۔

مولانا صاحب کو یہ اضطراب واختلاف بھی دیکھنا چاہیے اور یہ بات تو امید ہے مولانا صاحب بھی تسلیم کرتے ہوں گے کہ امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کے مقابلے میں قاضی ابو یوسف اقدم بھی ہیں اور اوثق بھی۔ لہٰذا ان کی بیان کردہ روایت کے مقابلے میں امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کی روایت مرجوح ہے۔ لہٰذا امام نخعی رحمۃ اللہ علیہ اور امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ کے مقابلے میں حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کے قول کو راجح قرار دینا چہ معنی دارد؟

ہم اپنی گزارشات اور تنقیحات کو اسی پر ختم کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ

اندکے بتو گفتم وبدل ترسیدم

ازردہ شوی ورنہ سخن بسیار است

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت