فهرس الكتاب

الصفحة 21 من 224

ہوتا گیا۔ فقدانِ بصر سے انہیں متعدد فوائد حاصل ہوئے جن میں سے صرف چار کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے:

1۔اللہ تعالیٰ سے اجر و ثواب(جنت)کے حقدار ہوئے:

صحیح بخاری میں ایک حدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

(( اِذَا ابَتَلَیْتُ عَبْدِيْ بِفَقْدِ حَبِیْبَتَیْہِ عَوَّضْتُہُمَا الْجَنَّۃَ ) ) [1]

''جب میں اپنے کسی بندے کو (دونوں آنکھوں کی) بینائی کے فقدان سے آزماتا ہوں تو اسے اس کے عوض میں جنت کا حقدار بنا دیتا ہوں۔''

2۔بے پناہ حافظہ:

ان کی قوتِ حفظ اور دانش و ذکاء میں بہت اضافہ ہوگیا یہاں تک کہ اگر آپ اُن سے کسی حدیث کے بارے میں پوچھیں اور وہ صحیحین و سُننِ اربعہ اور مسند احمد کی حدیث ہو تو عمومًا اس حدیث کی سند و متن، اس کے رجال، ان کے بارے میں ماہرینِ فن کاکلام اور اس کی شرح سب انہیں مستحضر و ازبر ہوتی تھی۔ [2]

3۔ز ہد و ورع:

دنیا کی رونقوں،زینتوں اور فتنوں سے بچ گئے اور اللہ نے انہیں انتہائی عابد و زاہد بنا دیا، انکساری و تواضع اور آخرت کی زندگی کی طرف انتہائی زیادہ توجہ ہوگئی۔

4۔نو رِ قلب:

اللہ نے انہیں نورِ چشم کی بجائے نورِ قلب سے نواز دیا، علم کی محبت اور سنّت

[2] الإنجاز (ص:۵۷۹۔۵۸۰) و القرنی في الممتاز (ص: ۱۳، ۱۴)

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت