قضاء کے فرائضِ منصبی کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ قاضی سے متعلقہ دوسرے کئی کام بھی آپ کرتے تھے مثلًا:
1 الجامع الکبیر الدلم میں امامت و خطابت۔
2 مساجد، ائمہ مساجد اور اوقاف کی نگرانی۔
3 احتساب کمیٹی، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے محکموں کی نگرانی۔
4 ترکوں کی تقسیم، وصیّتوں کا نفاذ اور نابالغ بچوں کی ولی امری (گارڈ ین شپ) ۔
5 گمشدہ جانوروں اور گرے پڑے اموال کی حفاظت۔
6 علاقے کے لیے خصوصًا اور پورے ملک کے لیے عمومًاشرعی فتووں کا کام۔
7 نکاح خوانی کی ذمہ داری و غیرہ۔ [1]
مفتی ٔاعظم مرحوم کے الدلم تشریف لے جانے اور وہاں کی الجامع الکبیر میں حلقۂ درس شروع کرنے کے ساتھ وہاں سارے سعودی عرب سے تشنگانِ علم جمع ہونے شروع ہوگئے۔ مرحوم قضاء کے اوقات کے بعد اپنے غالب اوقات تعلیم و تربیت میں ہی صرف کیا کرتے تھے حتیٰ کہ الجامع الکبیر والے حلقۂ درس کے علاوہ انھوں نے اپنے گھر میں بھی ایک حلقہ شروع کر دیا جس میں آپ کے خاص ملازمِ صحبت شاگرد فیض یاب ہوتے تھے۔
آپ کی تعلیم و تربیت کی شہرت ملک سے نکل کر دوسرے ممالک تک پہنچنا شروع ہوگئی تو یمن، عراق اور فلسطین و غیرہ سے بھی طالب علم آنے لگے، ان کی