فهرس الكتاب

الصفحة 97 من 224

نیز ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:

(( أُوْصِیْکُمْ بِتَقْوٰی اللّٰہِ وَ السَّمْعِ وَ الطَّاعَۃِ ) ) [1]

''میں تمہیں اللہ کا تقویٰ اور سمع و طاعت کا جذبہ اختیار کرنے کی وصیّت کرتا ہوں۔''

اور ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:

(( اِسْمَعُوْا وَ اَطِیْعُوْا، وَ اِنِ اسْتُعْمِلَ عَلَیْکُمْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ کَأَنَّ رَأْسَہٗ زَبِیْبَۃٌ ) ) [2]

''سنو اور اطاعت کرو، اگرچہ منکّے جتنے سر والا کوئی حبشی ہی تمہارا امیر کیوں نہ بنادیا گیا ہو۔''

2 شیخ موصوف اس بات کے بھی قائل تھے کہ حکام و امراء کی اطاعت صرف نیکی والے معاملات میں کی جائے گی کیونکہ ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:

(( لَا طَاعَۃَ لِأَحَدٍ فِيْ مَعْصِیَۃِ اللّْٰہِ، اِنَّمَا الطَّاعَۃُ فِی الْمَعْرُوْفِ ) ) [3]

''اللہ کی نافرمانی والے کام میں کسی کی اطاعت نہیں ہے، اطاعت صرف معروف معاملات میں ہے۔''

اسی طرح ارشادِ نبوی ہے:

(( لَا طَاعَۃَ لِمَنْ لَّمْ یُطِعِ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ ) ) [4]

''جو حاکم اللہ تعالیٰ کی اطاعت نہ کرے اس کی اطاعت نہیں ہے۔''

جبکہ مسند احمد، طیالسی، مستدرک حاکم اور معجم طبرانی میں ارشادِ نبوی ہے:

[2] صحیح البخاری، رقم الحدیث (۷۱۴۲)

[3] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۴۳۰۴) صحیح مسلم، مسند أحمد۔

[4] مسند أحمد (۳/ ۲۱۳) صحیح الجامع، رقم الحدیث (۷۵۳۱)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت