فهرس الكتاب

الصفحة 374 من 628

چوتھا رکن:

زکوٰۃ

زکوٰۃکا لغوی معنی:

لفظ زکوٰۃ تزکیۃ سے مصدر ہے جس کے چار مطالب ہے:

1.طہارت وپاکیزگی:

جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا رشاد ہے:

{ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا} [الشمس: ۹]

''یقینا وہ کامیاب ہو گیا جس نے اس (نفس) کو پاک کیا۔''

اسی طرح فرمایا:

{ وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ مَا زَكَى مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ أَبَدًا } [النور: ۲۱]

''اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو وہ تم میں سے کسی ایک کو بھی کبھی پاک نہ کرتا۔''

2.صلاحیت اور درستگی:

جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

{ فَأَرَدْنَا أَنْ يُبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيْرًا مِنْهُ زَكَاةً } [الکہف: ۸۱]

''سو ہم نے چاہا کہ انہیں ان کا پروردگار اس سے بہتر (اخلاقی) درستگی والا بچہ عنایت فرمائے۔''

3.برکت ، افزائش اور نشوونما:

عربی زبان میں ''زَکَّی الزَّرْعُ'' کا مطلب ہے: ''زَادَ وَتَکَاثَرَ'' (کھیتی بڑھ گئی اور

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت