چوتھا رکن:
زکوٰۃکا لغوی معنی:
لفظ زکوٰۃ تزکیۃ سے مصدر ہے جس کے چار مطالب ہے:
1.طہارت وپاکیزگی:
جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا رشاد ہے:
{ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا} [الشمس: ۹]
''یقینا وہ کامیاب ہو گیا جس نے اس (نفس) کو پاک کیا۔''
اسی طرح فرمایا:
{ وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ مَا زَكَى مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ أَبَدًا } [النور: ۲۱]
''اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو وہ تم میں سے کسی ایک کو بھی کبھی پاک نہ کرتا۔''
2.صلاحیت اور درستگی:
جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
{ فَأَرَدْنَا أَنْ يُبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيْرًا مِنْهُ زَكَاةً } [الکہف: ۸۱]
''سو ہم نے چاہا کہ انہیں ان کا پروردگار اس سے بہتر (اخلاقی) درستگی والا بچہ عنایت فرمائے۔''
3.برکت ، افزائش اور نشوونما:
عربی زبان میں ''زَکَّی الزَّرْعُ'' کا مطلب ہے: ''زَادَ وَتَکَاثَرَ'' (کھیتی بڑھ گئی اور