فهرس الكتاب

الصفحة 375 من 628

زیادہ ہو گئی)

اور فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

{خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا } [التوبۃ: ۱۰۳]

''آپ ان کے اموال سے زکوٰۃ وصول کر کے اس کے ذریعے انہیں پاک کیجیے اور ان کا تزکیہ کیجیے۔''

4.تعریف ومدح:

جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

{ فَلَا تُزَكُّوا أَنْفُسَكُمْ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَى } [النجم: ۳۲]

''پس تم اپنے نفس کی تعریف و مدح نہ کرو، وہ (اللہ) بہتر جانتا ہے کہ پرہیزگار کون ہے۔''

زکوٰۃکا اصطلاحی معنی:

زکوٰۃ کی اصطلاحی تعریف اہلِ علم نے یہ بیان کی ہے:

ہِیَ حَقٌّ وَاجِبٌ فِیْ مَالٍ مَخْصُوْصٍ فِیْ وَقْتٍ مَخْصُوْصٍ بِأَوْصَافٍ مَخْصُوْصَۃٍ لِطَائِفَۃٍ مَخْصُوْصَۃٍ۔

''مخصوص مال میں مقرر وہ واجب حق جو مخصوص وقت میں، مخصوص اوصاف کے ساتھ، مخصوص لوگوں کے لیے ہو۔''

زکوٰۃ کی اہمیت وفرضیت

قرآنِ کریم میں بے شمار ایسے مقامات ہیں کہ جہاں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو نماز کا حکم دینے کے متصل بعد ہی زکوٰۃ کی ادائیگی کا حکم بھی صادر فرمایا، جس سے اس اَمر کی اہمیت خوب واضح ہوتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت