چوتھا اصول
حسن اخلاق
اخلاق سے مراد طبعی خصلت و طبیعت اور فطری عادت و مروت ہے۔
اخلاق کااصطلاحی معنی:
1.امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے اخلاق کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے:
طَلَاقَۃُ الْوَجْہِ وَبَذْلُ الْمَعْرُوْفِ وَکَفُّ الْأَذٰی۔ [1]
''چہرے کی کشادگی اور قولی وفعلی بھلائی کی کوشش کرنے اور قولی وفعلی تکلیف دینے سے رک جانے کو کہتے ہیں۔''
2.امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:
سَلَامَۃُ النَّفْسِ نَحْوَالْأَرْفَقِ الْأَحْمَدِ مِنَ الْأَفْعَالِ۔ [2]
''حسنِ اخلاق نرم اور قابل ستائش افعال واعمال کی طرف اپنے نفس کو سپرد کر دینے کا نام ہے۔''
3.امام ماوردی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:
حُسْنُ الْخُلُقِ أَنْ یَکُوْنَ سَہْلَ الْعَرِیْکَۃِ لِیْنَ الْجَانِبِ طَلْقَ الْوَجْہِ قَلِیْلَ النُّفُوْرِ طَیِّبَ الْکَلِمَۃِ۔ [3]
''حسن اخلاق انسانی نرم خو، پہلو کو جھکانے والا ،کشادہ چہرے والا ، کم نفرت والااور پاکیزہ گفتگووالے مزاج کا نام ہے۔''
[2] مختصر شعب الإیمان: ۱۱۶، ۱۱۷.
[3] أدب الدنیا والدین: ۲۲۷.