فهرس الكتاب

الصفحة 476 من 628

چوتھا اصول

حسن اخلاق

اخلاق کا لغوی معنی :

اخلاق سے مراد طبعی خصلت و طبیعت اور فطری عادت و مروت ہے۔

اخلاق کااصطلاحی معنی:

1.امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے اخلاق کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے:

طَلَاقَۃُ الْوَجْہِ وَبَذْلُ الْمَعْرُوْفِ وَکَفُّ الْأَذٰی۔ [1]

''چہرے کی کشادگی اور قولی وفعلی بھلائی کی کوشش کرنے اور قولی وفعلی تکلیف دینے سے رک جانے کو کہتے ہیں۔''

2.امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:

سَلَامَۃُ النَّفْسِ نَحْوَالْأَرْفَقِ الْأَحْمَدِ مِنَ الْأَفْعَالِ۔ [2]

''حسنِ اخلاق نرم اور قابل ستائش افعال واعمال کی طرف اپنے نفس کو سپرد کر دینے کا نام ہے۔''

3.امام ماوردی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:

حُسْنُ الْخُلُقِ أَنْ یَکُوْنَ سَہْلَ الْعَرِیْکَۃِ لِیْنَ الْجَانِبِ طَلْقَ الْوَجْہِ قَلِیْلَ النُّفُوْرِ طَیِّبَ الْکَلِمَۃِ۔ [3]

''حسن اخلاق انسانی نرم خو، پہلو کو جھکانے والا ،کشادہ چہرے والا ، کم نفرت والااور پاکیزہ گفتگووالے مزاج کا نام ہے۔''

[2] مختصر شعب الإیمان: ۱۱۶، ۱۱۷.

[3] أدب الدنیا والدین: ۲۲۷.

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت