فوتی اللہ بچایاعرف حاجی کل ملکیت 1روپیہ
ورثاء:بیوی4آنہ، بہن8آنہ، کزن (عورت) محروم، دادےکےبھائیوں کی نرینہ اولاد4آنہ مشترکہ۔
قولہ تعالیٰ: {فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ}
{لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ}
حدیث شریف میں: (( الحقواالفرائض باهلهافمابقي فلاولي رجل ذكر. ) ) [1]
هذاهوعندي والعلم عندربي
جدید اعشاری طریقہ تقسیم
میت بچایاعرف حاجی کل ملکیت100
بیوی 4/1/=25
بہن 2/1/=50
کزن (عورت) محروم
داداکےبھائیوں کی نرینہ اولادعصبہ25
سوال:کیافرماتے ہیں علماءدین اس مسئلہ میں کہ حاجی فوت ہوگیااوراس نےوارث چھوڑے ایک بیوی، دوبیٹیاں، باپ اوربہن وضاحت کریں کہ شریعت محمدی کےمطابق ہرایک کوکتناحصہ ملےگا؟
الجواب بعون الوھاب:معلوم ہوناچاہیے کہ فوت ہونے والے کی ملکیت سےاس کےکفن دفن کاخرچہ نکالاجائےبعدمیں میت پراگرکوئی قرض تھاتواسےاداکیاجائے، بعدمیں اگرجائزوصیت کی تھی توکل مال کےتیسرےحصےتک اداکی بعدمیں باقی ملکیت منقول