فهرس الكتاب

الصفحة 660 من 660

خواہ غیرمنقول کوایک روپیہ قراردےکر تقسیم اس طرح سےہوگی۔

فوت ہونے والا حاجی ملکیت 1روپیہ

ورثاء:بیوی کو2آنے، دونوں بیٹوں کومشترکہ10آنے8پائیاں، باپ3آنے4پائیاں۔ بہن محروم۔

قولہ تعالیٰ: {فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ} (النساء)

{فَإِن كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَ‌كَ}

حدیث مبارکہ ہے: (( الحقواالفرائض باهلهافمابقي فلاولي رجل ذكر. ) ) [1]

هذاهوعندي والعلم عندربي

جدید اعشاریہ نظام تقسیم

میت حاجی کل ملکیت100

بیوی 8/1/=12.5

دوبیٹیاں 3/2/=66.66

باپ6/1عصبہ 20.84

بہن محروم

سوال:کیافرماتے ہیں علماءدین اس مسئلہ میں کہ مسمات سعیداں کواس کی ماں کی ملکیت میں سےجوحصہ ملاتھاجواس (سعیداں) نے اپنی حیاتی میں ہوش وحواس کی حالت میں اپنے دوماموں کوہبہ کردیا، ہبہ نامہ دستاویزی صورت میں تحریرشدہ ہےجس کے گواہ بھی موجودہیں لیکن اس جائیدادکاقبضہ علی خان اورجعفرکوابھی تک نہیں ملا، بلکہ قبضہ دوسرے لوگوں کےپاس ہے۔ اب مسمات سعیداں فوت ہوگئی ہےجس نےورثاء چھوڑےایک سوتیلابھائی

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت