فهرس الكتاب

الصفحة 115 من 248

''أَيْ یُصَلِّيْ بِلِسَانِہٖ خَفِیًّا''

''سننے والا آہستہ آہستہ درود پڑھ لے۔''

''شرح وقایۃ''میں سامِعْ کے درود پڑھنے کے انداز کے بارے میں لفظ ہی صاف وارد ہوا ہے: ''فَیُصَلِّيْ سِرًّا''،''وہ آہستگی سے پڑھ لے۔''

5۔ علامہ بدر الدین عینی نے''شرح کنز''میں اس کا معنی یوں کیا ہے:

''یُصَلِّيْ السَّامِعُ وَ یُسَلِّمُ فِيْ نَفْسِہٖ سِرًّا اِمْتِثَالًا لِأَمْرٍ'' [1]

''امرِ الٰہی کی تعمیل کرتے ہوئے سننے والا آہستگی سے دردو و سلام پڑھ لے۔''

گویا { فِي نَفْسِكَ} كا معنی سرًا معروف ہے۔

6۔7۔ ان علمائے احناف کے علاوہ مولانا عبد الحیٔ نے علامہ باجی مالکی سے نقل کرتے ہوئے''التعلیق الممجد''میں لکھا ہے:

''ہِيَ بِتَحْرِیْکِ الِّلسَانِ بِالتَّکْلِیْمِ وَاِنْ لَّمْ یُسْمِعْ نَفْسَہٗ سِرًّا''

''یہ زبان کو ہلاتے ہوئے پڑھنا ہے،اگرچہ اپنے آپ کو نہ سُنا سکے۔''

آگے لکھتے ہیں:''یہ قول سحنون نے قاسم سے روایت کیا ہے۔''

8۔ خود علامہ باجی رحمہ اللہ نے کہا:

''لَوْ اَسمَعَ نَفْسَہٗ یَسِیْرًا کَانَ أَحَبَّ إِليَّ'' [2]

[2] التعلیق الممجد (ص:۹۳) شرح زرقاني (۱؍۱۷۴) توضیح الکلام (۱؍۱۸۹،۱۹۰)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت