''اِعْلَمْ أَنَّ الْأَذْکَارَ الْمَشْرُوْعَۃَ فِيْ الصَّلَاۃِ وغَیْرَہَا وَاجِبَۃً کَانَتْ أَوْ مُسْتَحَبَّۃ ً لَا یُحْسَبُ شَیْیٌٔ مِّنْہَا وَلَا یُعْتَدُّ بِہٖ حَتّٰی یَتَلَفَّظَ بِہٖ بِحَیْثُ یُسْمِعُ نَفْسَہٗ اِذَا کَانَ صَحِیْحَ السَّمْعِ لَا عَارِضَ لَہٗ'' [1]
''یاد رہے جو اذکار نماز و غیرہ میں مشروع ہیں،وہ واجب ہوں یا مستحب،ان کا اس وقت تک اعتبار نہ ہو گا جب تک ان میں اس انداز کا تلفظ نہ ہو جس میں خود اپنے آپ کو سنا سکے بشرطیکہ صحیح سننے پر قادر ہو اور کوئی عارضہ بھی اسے لاحق نہ ہو۔''
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بھی یہی بات کہی ہے،بلکہ انھوں نے تو زبان کو حرکت دیے بغیر نماز کو صحیح کہنے والے کے ارتداد کی رائے دیتے ہوئے لکھا ہے:
''مَنْ قَالَ:اَنَّہَا تَصِحُّ دُوْنَہٗ فَیُسْتَتَابُ'' [2]
''جو اس کے بغیر نماز کو صحیح کہے،اس سے توبہ کرائی جائے۔''
اس تفصیل سے معلوم ہو اکہ اس آیت کے عموم سے بھی مقتدی کے لیے سورت فاتحہ { الْحَمْدُ لِلّٰهِ} کا پڑھنا واجب بنتا ہے۔
اس آیت سے استدلال پر وارد اعتراضات کے تفصیلی جوابات کے لیے دیکھیں:''توضیح الکلام'' (۱؍۱۱۳۔۱۱۸)
قرآنی آیات کے علاوہ قائلینِ قراء تِ فاتحہ خلف الامام کا استدلال بکثرت
[2] ختصر الفتاوی المصریہ (ص:۴۳)