میں یا قراء ت کے درمیانی سکتات میں۔ [1]
''جزء القراءة''امام بخاری میں امام مجاہد رحمہ اللہ کا اثر مروی ہے جس میں ہے:
''إِذَا لَمْ یَقْرَأْ خَلْفَ الْْإِمَامِ أَعَادَ الصَّلَاۃَ'' [2]
''جب کوئی شخص امام کے پیچھے سورت فاتحہ کی قراء ت نہ کر سکے تو وہ نماز کو دہرائے (یعنی دوبارہ پڑھے) ۔''
تھوڑا ٓگے چل کر امام بخاری رحمہ اللہ ان سے روایت کرتے ہیں:
''إِذَا نَسِيَ فَاتِحَۃَ الْکِتَابِ لَا یُعْتَدُّ تِلْکَ الرَّکْعَۃِ' ' [3]
''جس رکعت میں مقتدی سورت فاتحہ بھول جائے تو اسے وہ رکعت شمار نہیں کرنی چاہیے۔''
7۔اثرِ حضرت قاسم بن محمد بن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ:
''جزء القراءة''امام بخاری اور''کتاب القراءة''سنن کبریٰ بیہقی میں خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پوتے حضرت قاسم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
''کَانَ رِجَالٌ أَئِمَّۃٌ یَقْرَئُوْنَ خَلْفَ الْإِمَامِ' '
''ائمہ کرام اپنے امام کے پیچھے بھی قراء ت کرتے تھے۔'' [4]
جب کہ موطا امام مالک میں ہے:
''کَانَ یَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ فِیْمَا لَا یَجْہَرُ فِیْہِ الْإِمَامُ بِ القراءة'' [5]
[2] کتاب القراءة (ص:۷۸) جزء القراءة (ص:۴۵)
[3] جزء القراءة (ص:۴۵)
[4] کتاب القراءة (ص:۷۷) جزء القراءة (ص:۳۴) سنن الکبری (۲؍۱۶۱) توضیح (۱؍۴۶ ۵)
[5] موطأ مع تنویر الحوالک (۱؍۱؍۱۰۷)