فهرس الكتاب

الصفحة 225 من 248

4۔ اسی نوعیت کا ایک اثر موطا امام محمد (ص:۸۹) میں بھی ہے،لیکن اس کا ایک راوی بکیر بن احمد بھی حافظ ابن حجر کے بقول ضعیف ہے۔ [1]

5۔اثرِ عمرو بن میمون رحمہ اللہ:

5۔ مصنف ابن ابی شیبہ میں مالک بن عمارہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگردوں خصوصًا عمرو بن میمون رحمہ اللہ سے قراء ت خلف الامام کے بارے میں پوچھا:تو اُن سب کا کہنا ہے:

''لَا یُقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ'' [2] ق''امام کے پیچھے قراء ت نہ کی جائے۔''

اس اثر کے راوی مالک بن عمارہ رحمہ اللہ کے بارے میں''التعلیق الحسن علی آثار السنن''میں علامہ نیموی حنفی رحمہ اللہ نے لکھا ہے:

''فِیْہِ مَالِکُ بْنُ عُمَارَۃَ لَمْ أَقِفْ مَنْ ہُوَ'' [3]

''اس میں ایک راوی مالک بن عمارہ ہے،مجھے معلوم نہیں کہ وہ کون ہے۔''

پھر خود حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا سری نمازوں میں قراء ت کرنا صحیح سند سے فریقِ اول کے موید آثارِ صحابہ رضی اللہ عنہم کے ضمن میں ذکر کیا جا چکا ہے،لہٰذا اگر ان کے تلامذہ کے اس اثر کو عموم پر محمول کیا جائے تو یہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے اثر کے مقابلے میں مرجوح ہو گا۔

6،7،8۔آثارِ اسود بن یزید رحمہ اللہ:

6۔ ایسے ہی مصنف ابن ابی شیبہ میں حضرتِ نخعی،امام اسود بن یزید سے نقل کرتے ہیں:

[2] ابن أبي شیبۃ (۱؍۳۷۷)

[3] التعلیق الحسن (ص:۹۲)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت