فهرس الكتاب

الصفحة 129 من 248

4۔اثرِ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ:

جلیل القدر تابعی حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کا اثر یا فتویٰ''کتاب القراءة''سنن کبری بیہقی،مصنف عبدالرزاق اور مصنف ابن ابی شیبہ میں منقول ہے،چنانچہ وہ فرماتے ہیں:

''اَقْرَأْ خَلْفَ الْإِمَامِ فِيْ کُلِّ صَلاَۃ ٍ (فِيْ کُلِّ رَکْعَۃٍ) بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ فِيْ نَفْسِيْ'' [1]

''آہستگی سے امام کے پیچھے ہر نماز (کی ہر رکعت) میں سورت فاتحہ پڑھتا ہوں۔''

5۔اثرِ حضرت عروۃ بن زبیر رحمہ اللہ:

حضرت عروۃ بن زبیر رحمہ اللہ سے تین مختلف سندوں سے ایک اثر موطا امام مالک،مصنف عبدالرزاق،''جزء القراءة''امام بخاری اور''کتاب القراءة''بیہقی میں ہے۔موطا امام مالک میں ہے:

''کَانَ یَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ إِذَا لَمْ یَجْہَرْ فِیْہِ الْإِمَامُ بِالقراءة'' [2]

''وہ سورت فاتحہ کی امام کے پیچھے بھی قراء ت کرتے تھے،جب کہ امام کی قراء ت سری ہوتی تھی۔''

جب کہ مصنف عبدالرزاق،''جزء القراءة''امام بخاری اور''کتاب القراءة''بیہقی کی اسناد سے وارد اس اثر سے جہری و سری تمام نمازوں میں سورت فاتحہ پڑھنے کا پتا چلتا ہے۔امام کے سورت فاتحہ کے بعد والے سکتے میں یا آخری سکتے

[2] موطأ مع تنویر الحوالک (۱؍۱؍۱۰۷)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت