فهرس الكتاب

الصفحة 199 من 248

اس سے ترکِ قراء ت پر استدلال کرنا کسی طرح بھی صحیح نہیں ہو سکتا۔

اس مفہوم کا ایک اثر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،جس میں ہے:

''وَدِدْتُّ أَنَّ الَّذِيْ یَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ فِيْ فِیْہ جَمْرًا'' [1]

''مجھے اچھا لگتا ہے کہ جو شخص امام کے پیچھے قراء ت کرے،اس کے منہ میں آگ کا انگارہ ڈالا جائے۔''

مزید حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے:

''لَیْتَ فِيْ فَمِ الَّذِيْ یَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ حَجْرًا'' [2]

''کاش ا مام کے پیچھے پڑھنے والے کے منہ میں پتھر پڑیں۔''

ایسی ہی روایات پر حضرت نظام الدین اولیا کا مذکورۃ الصدر جواب انتہائی کامیاب ہے،جو اس کتاب کے آغاز میں درج ہے۔ [3]

قرآن و سنت کی انہی نصوص سے مانعینِ قراء ت نے استدلال کیا ہے اور کہا ہے کہ مقتدی کو امام کے پیچھے قراء ت نہیں کرنی چاہیے۔اسی موضوع کی بعض دیگر روایات بھی ہیں،جن سے دلیل لی جاتی ہے،لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے بھی کوئی روایت ایسی نہیں جو اپنے موضوع میں صریح و صحیح ہو،بلکہ ضعیف و شاذ اور موضوع و من گھڑت ہونے کی وجہ سے ناقابلِ استدلال و حجت ہیں۔لہٰذا ہم ان چار حدیثی دلائل پر مشتمل انہی روایات سے وجۂ استدلال اور قائلینِ وجوبِ فاتحہ کی طرف سے ان کے جوابات پر اکتفا کرتے ہیں۔

[2] نصب الرایۃ (۲؍۶۱) ،و موطأ إمام محمد (ص:۹۸)

[3] تفصیل کے لیے اس موضوع کا آغاز دیکھیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت