فهرس الكتاب

الصفحة 231 من 248

ان کا پرانا قول ہے،بعد میں انھوں نے اس سے رجوع فرما کر احادیثِ شریفہ سے ثابت شدہ وجوب کا قول اختیار فرما لیا تھا اور یہی معاملہ ان کے دو شاگردانِ رشید میں سے امام محمد رحمہ اللہ کا بھی ہے،چنانچہ''غیث الغمام''علامہ لکھنوی حنفی میں ہے کہ معروف حنفی عالم امام شعرانی نے''المیزان الکبریٰ''میں لکھا ہے:

''لِأَبِيْ حَنِیْفَۃَ وَمُحَمَّدٍ قَوْلَانِ:أَحَدُہُمَا عَدَمُ وُجُوْبِہَا عَلَیٰ الْمَأْمُوْمِ،بَلْ وَ لَا تُسَنُّ،وَہَذَا قَوْلُہُمَا الْقَدِیْمُ،وَ أَدْخَلَہٗ مُحَمَّدٌ فِيْ تَصَانِیْفِہٖ الْقَدِیْمَۃِ،وَ انْتَشَرَتِ النُّسَخُ إِلَیٰ الْأَطْرَافِ،وَ ثَانِیْہِمَا اسْتِحْسَانُہُمَا عَلَیٰ سَبِیْلِ الْاِحْتِیَاطِ وَعَدَمِ کَرَاہَتِہَا عِنْدَ الْمُخَافَتَۃِ لِلْحَدِیْثِ الْمَرْفُوْعِ: (( لَا تَفْعَلُوْا إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ ) )وَ فِيْ رِوَایَۃٍ: (( لَا تقْرَأُوْا بِشَیْئٍ إِذَا جَہَرْتُ إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ ) )وَقَالَ عَطَائُ:کَانُوْا لَا یَرَوْنَ عَلَیٰ الْمَأْمُوْمِ القراءة فِیْمَا یَجْہَرُ فِیْہِ الْإِمَامُ وَفِيْ مَا یُسِرُّ،فَرَجَعَا مِنْ قَوْلِہِمَا الْأَوَّلِ إِلَیٰ الثَّانِيْ اِحْتِیَاطًا'' [1]

''امام ابو حنیفہ و محمد رحمہما اللہ کے قراء ت فاتحہ خلف الامام کے بارے میں دو قول ہیں:

مقتدی پر قراء ت واجب نہیں،بلکہ امام کے پیچھے قراء ت کرنا بھی سنت نہیں ہے یہ ان کا قدیم،پہلا اور پرانا قول ہے جسے امام محمد نے اپنی پرانی تصانیف میں داخل کر دیا،جس کے نسخے اطراف میں پھیل گئے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت