فهرس الكتاب
- 📄
- 📄
عائشہ رضی اللہ عنہا کے روبرو ذکر کیا تو انہوں نے ایسا کرنے سے منع فرمایا۔
امام احمد رحمہ اللہ نے سعد بن ہشام رحمہ اللہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے کہا:
(( أَتَیْتُ عَائِشۃَ رضی اللّٰه عنہا،فَقُلْتُ:''یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِیْنَ ! إِنِّيْ أُرِیْدُ أَنْ أَتَبَتَّلَ۔''
فَقَالَتْ:''لاَ تَفْعَلْ۔أَلَمْ تَقْرَأَ {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} [1] قَدْ تَزَوَّجَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صلی اللّٰه علیہ وسلم وَوُلِدَ لَہُ۔'' )) [2]
''میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا،اور عرض کی:''اے ام المومنین ! میں عورتوں سے (بغرض جہاد) علیحدہ ہونا چاہتا ہوں۔''
انہوں نے فرمایا:''ایسے نہ کرو۔کیا تو نے [یہ آیت کریمہ] نہیں پڑھی [جس کے معانی کا ترجمہ یہ ہے] ''یقینا تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بہترین نمونہ ہے۔''بلا شک وشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی کی،اورآپ کے ہاں اولاد پیدا ہوئی۔''
قصے سے مستفاد باتیں:
1 سعد بن ہشام رحمہ اللہ کے خلاف سنت عمل اور ارادے پر احتساب کی تایید میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آیت کریمہ سے استدلال کیا،کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
اور ایک دوسری روایت میں ہے: (( أَنَّہُ طَلَّقَ امرأتہ ، ثم انطلق إلی المدینۃ لیبیع عقارہ ۔ ) ) (المرجع السابق ۱/۵۱۴) ۔ [انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دی ، اور اپنی جائیداد بیچنے کے لیے مدینہ آئے۔]
سورۃ الأحزاب / جزء من الآیۃ ۲۱۔
[2] المسند ۶/۱۱۲ ؛ نیز ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۶/۹۱۔