فهرس الكتاب
- 📄
- 📄
والے شخص کو قتل کرنے کے سوا اور کوئی چارہ نہ ہو،تو ایسی صورت میں ایسے شخص کا قتل کرنا عورت پر واجب ہے،اور اس بات پر فقہائے امت کا اتفاق ہے۔شیخ عبدالقادر عودہ رحمہ اللہ نے تحریر کیا ہے:
(( وَقَدْ اتَّفَقَ الْفُقَہَائُ عَلَی أَنَّ دَفَْعَ الصَّائِلِ وَاجِبٌ عَلَی الْمُدَافِعِ فِيْ حَالَۃِ الْعِرْضِ۔فَإِذَا أَرَادَ رَجُلٌ اِمْرَأَۃً عَلَی نَفْسِہَا،وَلَمْ تَسْتَطِعْ دَفْعَہُ إِلاَّ بِالْقَتْلِ،کَانَ مِنَ الْوَاجِبِ عَلَیْہَا أَنْ تَقْتُلَہُ إِنْ أَمْکَنَہَا ذٰلِکَ۔ ) ) [1]
''فقہاء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عزت پر حملہ آور ہونے والے کا روکنا واجب ہے۔اگر کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے،اور عورت کے لیے اپنے بچائو کی غرض سے اس مرد کو قتل کرنے کے سوا اور کوئی چارہ کار نہ ہو،تو استطاعت کی صورت پر ایسے مرد کو قتل کرنا واجب ہو گا۔''
1 زنا کس قدر سنگین جرم ہے کہ کسی عورت کو اس پر مجبور کرنے والا واجب القتل قرار پاتا ہے۔ [2]
دوران طواف حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک عورت پر صلیب کی شکل والی چادر
[2] زنا کے گناہ کی سنگینی کے بارے میں تفصیلی معلومات کے لیے ملاحظہ ہو: راقم السطور کی کتاب: التدابیر الواقیۃ من الزنا في الفقہ الإسلامي ص ۱۷-۷۰۔