1 عمل کا زیادہ ہونا یا اس میں مشقت کا زیادہ ہونا،اس کی شان وعظمت کی دلیل نہیں،قدر ومنزلت کا معیار اتباع سنت ہے۔
۲: ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہانے اپنے احتساب کی تایید اسوہ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے کی۔ان کے احتساب کی تایید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس کو حضرات ائمہ ابوداود،ترمذی،ابن ماجہ اور دارمی رحمہم اللہ نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( لاَ یَفْقَہُ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فِيْ أَقَلِّ مِنْ ثَلاَثٍ۔ ) ) [1]
''جس نے تین دن سے کم [مدت] میں قرآن پڑھا،اس نے [اس کو] سمجھا نہیں۔''
امام ترمذی ؒ نے اس حدیث کو [حسن صحیح] قرار دیا ہے ۔ (ملاحظہ ہو:جامع الترمذي ۸/۲۲۲) ؛ اور شیخ البانی ؒ نے اس کو [صحیح] کہا ہے ۔ (ملاحظہ ہو:صحیح سنن أبي داود ، ۱/۲۶۲؛ وصحیح سنن الترمذي ۳/۱۷ ؛ وصحیح سنن ابن ماجۃ ۱/۲۲۵ ، وسلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ ۴/۱۸- ۱۹ ، وہامش مشکاۃ المصابیح ۱/۶۷۴) ۔