فهرس الكتاب

الصفحة 143 من 320

ثُمَّ دَعَتْ بِخَمَارٍ،فَکَسَتْہَا۔ )) [1]

''میں نے عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہا کی بیٹی حفصہ کو باریک دوپٹے میں دیکھا،اس کا گریبان نیچے سے نظر آ رہا تھا۔عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کے دوپٹے کو چیر دیا،اور فرمایا:''اللہ تعالیٰ نے سورہ نور [2] میں جو [حکم] نازل فرمایا ہے کیا تجھے اس کا علم نہیں ؟''

پھر ایک اوڑھنی منگوائی،اور اس کو پہنا دی۔''

ایک دوسری روایت میں ہے:

(( فَشَقَّتْہُ عَائِشَۃُ رضی اللّٰه عنہا وَکَسَتْہَا خِمَارًا کَثِیْفًا۔ ) ) [3]

''عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کو چیر دیا،اور اس کو ایک موٹی اوڑھنی پہنائی۔''

قصے سے مستفاد باتیں:

1 حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے [ڈانٹ ڈپٹ اور جھاڑنے کا] درجہ احتساب استعمال کیا۔اور شاید اس سختی کا سبب یہ تھا کہ آل صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی بیٹی سے یہ توقع نہ تھی کہ وہ ایسی باریک اوڑھنی میں گھر سے نکلے۔

2 حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے باریک اوڑھنی کو اتارنے کا حکم دینے کی بجائے اس کوچیر دیا۔اور شاید اس میں بھتیجی کے لیے ہمیشہ یاد رہنے والا سبق،اور کبھی نہ بھولنے والی تنبیہ ہو۔حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم کے اس سلسلے میں متعدد واقعات ثابت ہیں۔ان کی

[2] شاید حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکا مقصود یہ آیت کریمہ تھی: {وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنَاتِ یَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِہِنَّ وَیَحْفَظْنَ فُرُوْجَہُنَّ وَلاَ یُبْدِیْنَ زِیْنَتَہُنَّ إِلاَّ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰی جُیُوْبِہِنَّ} [سورۃ النور /الآیۃ ۳۱] [ترجمہ: اور آپ ایمان والی عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نظریں نیچی رکھیں ، اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں ، اور اپنی زیب وزینت کو ظاہر نہ کریں ، سوائے اس کے جو ظاہر رہتا ہے ، اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رکھیں ۔]

[3] المؤطا ، کتاب اللباس باب ما یکرہ للنساء لبسہ من الثیاب ، رقم الروایۃ ۶، ۲/۹۱۳۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت