فهرس الكتاب

الصفحة 214 من 320

(۳)دوران غسل مینڈھیوں کو کھولنے کے فتویٰ پر عائشہ رضی اللہ عنہاکا احتساب

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما عورتوں کو دوران غسل مینڈھیوں کو کھولنے کا حکم دیتے تھے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس بات کی اطلاع ہوئی،تو انہوں نے اس بنا پر ان کا احتساب کیا۔

دلیل:

امام مسلم ؒنے عبید بن عمیر رحمہ اللہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ:

(( بَلَغَ عَائِشَۃَ أَنَّ عَبْدَ اللّٰهِ بْنَ عَمْرٍو رضی اللّٰه عنہما یَأْمُرُ النِّسَائَ إِذَا اغْتَسَلْنَ أَنْ یَنْقُضْنَ رُؤُوْسَہُنَّ۔فَقَالَتْ:''یَا عَجَبًا لِابْنِ عَمْرٍو ہٰذَا ! یَأْمُرُ النِّسَائَ إِذَا اغْتَسَلْنَ أَنْ یَنْقُضْنَ رُؤُوْسَہُنَّ۔أَفَلاَ یَأْمُرُہُنَّ أَنْ یَحْلِقْنَ رُؤُوْسَہُنَّ ؟

لَقَدْ کُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُوْلُ اللّٰهِ صلی اللّٰه علیہ وسلم مِنْ إِنَائٍ وَاحِدٍ،وَلاَ أَزِیْدُ عَلَی أَنْ أُفْرِغَ عَلَی رَأْسِيْ ثَلاَثَ إِفْرَاغَاتٍ۔ )) [1]

''عائشہ کو خبر ملی کہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما عورتوں کو غسل کے وقت سروں [کے بالوں] کے کھولنے کا حکم دیتے ہیں۔اس پر انہوں نے فرمایا:''اس ابن عمرو پر تعجب ہے ! وہ عورتوں کو وقت ِ غسل سروں کے کھولنے کا حکم دیتے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت