فهرس الكتاب

الصفحة 200 من 592

لیکن یہ کہنا کہ مجھ پر ایک نگہبان ہے، اور کبھی بھی یہ ہر گز گمان نہ کرنا کہ اللہ تعالیٰ ایک گھڑی کے لیے بھی غافل ہوگا ، اورنہ ہی جو کچھ تم چھپاتے ہو اس کی نظروں سے غائب ہوسکتا ہے۔ ''

جب مومن کی تربیت اس جیسی باتوں پر ہوتی ہے تووہ اس کیتقاضوں کے مطابق عمل بھی کرتا ہے، اور ایک کامل اخلاق والا انسان بن جاتا ہے، اور اس کی پرورش ایسی پاکیزہ ہوتی ہے کہ کوئی چیز اسے بھٹکا نہیں سکتی، اور نہ ہی اس کی شہوت اسے اپنا غلام بنا سکتی ہے، اور نہ ہی اس پر شیطان مسلط ہوسکتاہے، اور نہ ہی اس پر نفس امارہ اپنا کوئی کام دیکھا سکتا ہے۔ بلکہ جب اسے حرام شہوت کسی طرف بلاتی ہے تو وہ فورًا بیدار ہوجاتاہے اوروہ کہتا ہے: '' میں اللہ سے ڈرتا ہوں ، میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، اور جب شیطان اس کے دل میں کوئی وسوسہ ڈالتا ہے تووہ فورًا اسے کہتا ہے کہ مجھ پر تیرا بس نہیں چل سکتا۔

جب اس کے دوست اس کے لیے برائی اور فحاشی کے راستوں کو مزین کردیتے ہیں تو وہ انھیں یہ کہہ کر خاموش کرادیتا ہے کہ میں جاہلوں کو پسند نہیں کرتا۔

وہ انسان جس کی تربیت اس طریقہ کار پر ہوئی ہو ، وہ اس بات کا حق دارہے کہ جب کبھی کسی وقت وہ حرام کے قریب ہو ، اور اسے روکا جائے تواس پر یہ کلمہ اثر کرے: '' اتَّقِ اللّٰہَ '' یعنی اللہ سے ڈر جاؤ۔ آپ ذرا اس آدمی کے حال پر غور کیجیے ! جو تین آدمیوں میں سے ایک تھا ؛جنہیں اللہ تعالیٰ نے غار سے نجات عطا فرمائی تھی۔ جب ایک چٹان کے ذریعے غارکا منہ بند کردیا تھا۔ [اوروہ اپنے اپنے نیک اعمال کو یاد کرکے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے لگے ] 'ان میں ایک نے اپنی دعا میں یہ کہا تھا:

''اے اللہ! میری ایک چچا زاد بہن تھی۔ جو لوگوں میں سب سے زیادہ مجھے محبوب تھی۔ جس طرح مردوں کو عورتوں سے سخت محبت ہوتی ہے۔ میں نے اس کو طلب کیا یعنی بدکاری کا اظہار کیا۔ تو اس نے انکار کردیا۔ یہاں تک کہ ایک سال بعد دوبارہ انتہائی مجبوری کی حالت میں میرے پاس آئی۔ میں نے پھر مطالبہ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت