فهرس الكتاب

الصفحة 534 من 592

تکبر کا معنی

ابن فارس رحمہ اللہ فرماتے ہیں: '' الکبر: العظمۃ '' کِبر بڑائی کو کہتے ہیں، اور ایسے ہی کبریاء کا معنی ہے۔

اور کہا جاتا ہے: (( ورثوا المجد کابرًا عن کابر أي کبیرًا عن کبیرٍفي الشرف والعز۔ ) )

'' انہوں نے بزرگی کو بڑوں سے وراثت میں پایا: یعنی: بڑوں نے عزت و شرف بڑوں سے حاصل کیا۔

ابن منظور رحمہ اللہ کہتے ہیں:

(( الکبر بالکسر والکبریا: العظمۃ والتجبر۔ ) )

'' کبر (ک کے نیچے زیر کے ساتھ ) اور کبریاء: عظمت اور جبروت کو کہتے ہیں۔

شرعًا:

سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:

(( لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِيْ قَلْبِہِ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ مِنْ کِبْرٍ قَالَ رَجُلُ: إِنَّ الرَّجُلَ یُحِبُّ أَنْ یَّکُوْنُ ثَوْبُہٗ حَسَنًا وَنَعْلَہُ حَسَنَۃً قَالَ: إِنَّ اللّٰہَ جَمِیْلٌ یُحِبُّ الْجَمَالَ الْکِبَرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ۔ ) ) [1]

'' جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں نہیں جائے گا اس پر ایک آدمی نے عرض کیا کہ ایک آدمی چاہتا ہے کہ اس کے کپڑے اچھے

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت