سیّدنا معاویہ [بن سفیان] رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
''مروت شہوات کو ترک کرنا اور خواہشات کی مخالفت کرنا ہے۔ خواہشات نفس کی پیروی مروت کو بیمار کردیتی ہے۔ جب کہ اس کی مخالفت مروت کو اجلا کر (چمکا ) دیتی ہے۔'' [1]
مہلب بن صفرہ سے پوچھا گیا:
'' یہ جو مقام و مرتبہ ،اور قدر و منزلت آپ نے حاصل کیے ہیں ، ان کا راز کیا ہے؟
فرمایا: '' حق کی پختہ اطاعت اور خواہشات نفس کی مخالفت سے۔ '' [2]
ان میں بعض [دانشوروں] کا کہنا ہے کہ:
'' علماء میں سب سے بڑھ کر عزت و شرف والا وہ ہے جو اپنے دین کو بچا کر دنیا سے راہ فرار اختیار کرے اور وہ دین خواہشات نفس کے لیے دین کو زیر کرنا مشکل بنادے۔ '' [3]
ابوعبد اللہ الدقاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
'' جو انسان اپنی جوانی کے دنوں میں خواہشات نفس کو زیر کرلے ، ان کا مالک بن جائے ، اللہ تعالیٰ اسے بڑھاپے میں عزت و شرف عطا کرتے ہیں۔ '' [4]
ابن عبد القوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
فَمَنْ ہَجَرَ اللَّذَّاتِ نَالَ الْمُنٰی وَمَنْ
أَکَبٌّ عَلَی اللَّذَّاتِ عَضَّ عَلَی الْیَدِ
[2] العقل وفضلہ لابن أبي الدنیا:۹۲.
[3] ذم الہوی: ۲۷.
[4] روضۃ المحبین:۴۸۳.