فهرس الكتاب

الصفحة 279 من 592

شرف و منزلت:

سیّدنا معاویہ [بن سفیان] رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

''مروت شہوات کو ترک کرنا اور خواہشات کی مخالفت کرنا ہے۔ خواہشات نفس کی پیروی مروت کو بیمار کردیتی ہے۔ جب کہ اس کی مخالفت مروت کو اجلا کر (چمکا ) دیتی ہے۔'' [1]

مہلب بن صفرہ سے پوچھا گیا:

'' یہ جو مقام و مرتبہ ،اور قدر و منزلت آپ نے حاصل کیے ہیں ، ان کا راز کیا ہے؟

فرمایا: '' حق کی پختہ اطاعت اور خواہشات نفس کی مخالفت سے۔ '' [2]

ان میں بعض [دانشوروں] کا کہنا ہے کہ:

'' علماء میں سب سے بڑھ کر عزت و شرف والا وہ ہے جو اپنے دین کو بچا کر دنیا سے راہ فرار اختیار کرے اور وہ دین خواہشات نفس کے لیے دین کو زیر کرنا مشکل بنادے۔ '' [3]

ابوعبد اللہ الدقاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

'' جو انسان اپنی جوانی کے دنوں میں خواہشات نفس کو زیر کرلے ، ان کا مالک بن جائے ، اللہ تعالیٰ اسے بڑھاپے میں عزت و شرف عطا کرتے ہیں۔ '' [4]

ابن عبد القوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

فَمَنْ ہَجَرَ اللَّذَّاتِ نَالَ الْمُنٰی وَمَنْ

أَکَبٌّ عَلَی اللَّذَّاتِ عَضَّ عَلَی الْیَدِ

[2] العقل وفضلہ لابن أبي الدنیا:۹۲.

[3] ذم الہوی: ۲۷.

[4] روضۃ المحبین:۴۸۳.

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت