فهرس الكتاب

الصفحة 522 من 592

سلف میں سے بعض نے کہاہے:

'' ہم نے کوئی چیز مناظرہ اور مجادلہ سے بڑھ کر ایسی نہیں دیکھی جو کہ دین کو ختم کرنے والی اور مروت کوکم کرنے والی ہو اور لذت کو ضائع کرنے والی اور دل کومشغول کرنے والی ہو۔'' [1]

راہ حق سے دوری:

مسلم بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

'' خبردار ! مناظرہ اورکٹ حجتی سے بچ کررہو۔ اس لیے کہ یہ عالم انسان کی جہالت کی گھڑی ہوتی ہے اور اس وقت شیطان کی بھر پور کوشش ہوتی ہے کہ انسان پھسل جائے۔ '' [2]

کرامت کا خاتمہ:

بعض عربوں نے کہا ہے:

'' جو لوگوں سے جھگڑا اور مناظرہ کرتاہے اس کی کرامت کم ہوجاتی ہے، اور جو انسان کوئی کام کثرت سے کرتا ہے ، وہ اسی کی نسبت سے مشہور ہوجاتا ہے۔''

امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

قَالُوْا سَکَتَّ وَقَدْ خُوْصِمْتَ قُلْتُ لَہُمْ

إِنَّ الْجَوَابَ لِبَابِ الشَّرِّ مِفْتَاحُ

وَالصُّمْتُ عَنْ جَاہِلٍ أَوْ أَحْمَقَ شَرَفٌ

وَفِیْہِ أَیْضًا لِصَوْنِ الْعِرْضِ إِصْلَاحُ

أَمَا تَرَی الْأُسْدَ تُخْشٰی وَہِیَ صَامِتَۃُ

وَالْکَلْبُ لَعَمْرِيْ وَہُوَ نَبَّاحٌ

[2] سنن الدارمي: ۳۹۶۔ حلیۃ الأولیاء: ۲/۲۹۴.

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت