فهرس الكتاب

الصفحة 464 من 592

خاتمہ

اپنی دنیا میں غور وفکر کیجیے۔اس نے کتنے ہی قتل کیے ہیں؟اور آپ کے ساتھیوں کے ساتھ اس نے کیا سلوک کیا؟ اس سے بچ کر رہیں۔ کیونکہ اس دنیا نے آپ کو بہت اہم چیزوں سے مشغول کردیا ہے۔خبر دار کہ دنیا کی سکونت اختیار کرو اسے اپنے دل میں جگہ مت دو اس لیے کہ یہ جیسے ہی پڑاؤ ڈالتی ہے ، پھر کوچ کر جاتی ہے۔

سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:

'' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک مردار بکری پر ہوا ، جسے اس کے گھر والوں نے پھینک دیا تھا۔ تو آپ نے فرمایا:

(( وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ إِنَّ الدُّنْیَا أَہْوَنُ عَلَی اللّٰہِ مِنْ ہٰذِہِ عَلٰی أَہْلِہَا۔ ) ) [1]

'' اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! بے شک یہ دنیا اللہ تعالیٰ کے ہاں اس [مردار بکری ] کے اپنے اہل گھروالوں کے لیے [بے وقعت ہونے سے ] سے بڑھ کر بے وقعت ہے۔''

سیّدنا مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( وَاللّٰہِ مَا الدُّنْیَا فِی الْآخِرَۃِ إِلَّا مِثْلَ مَا یَجْعَلْ أَحَدُکُمْ إِصْبَعَہٗ ہٰذِہِ وَأَشَارَ یَحْیٰی بِالسَّبَابَۃِ فِی الْیَمِّ فَلْیَنْطُرْ بِمَ تُرْجِعُ۔ ) ) [2]

اللہ کی قسم دنیا آخرت کے مقابلے میں اس طرح ہے کہ جس طرح تم میں سے

[2] صحیح مسلم: ۲۸۵۸.

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت