فهرس الكتاب

الصفحة 496 من 592

محض جھگڑے کی غرض سے ہے، بلکہ یہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو۔'' [1]

اور اس کے بعد پھر یہ آیت نازل ہوئی:

{ إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ } (الأنبیاء:۱۰۱)

''البتہ بے شک جن کے لیے ہماری طرف سے نیکی پہلے ہی ٹھہر چکی ہے۔ وہ سب جہنم سے دور ہی رکھے جائیں گے۔''

سیّدنا عزیر علیہ السلام اور سیّدنا عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام اس آگ سے بہت ہی دور ہیں۔ [2] جب کہ ان کے باقی جھوٹے معبود سب اس آگ میں ان کے ساتھ جل رہے ہوں گے۔ یہاں تک کہ چاند و سورج اور ان کے بت اس آگ میں ہوں گے ، تا کہ ان کی عبادت کرنے والوں کو اور زیادہ عذاب ہو، اور ان سے کہا جائے گا: یہ ہے وہ جس کی تم پوجا کیا کرتے تھے،

[2] سیّدنا مسیح علیہ السلام کا جب ذکر آیا تو عرب کے مشرکین نے خوب شور مچایا۔ بعض روایات میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا: ''لَیْسَ اَحَدٌ یُعْبَدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فِیْہِ خَیْرٌ۔'''' جسے بھی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر پوجا جائے ، اس میں کوئی خیر نہیں ہے۔'' (اس پر ) کہنے لگے کیا مسیح میں کوئی خیر اور بھلائی نہیں؟ ظاہر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان الفاظ کا مطلب ان چیزوں سے متعلق تھا جن کی پرستش لوگ کرتے ہیں، اور وہ ان کو اس سے نہیں روکتے، اور اپنی بیزاری کا اظہار نہیں کرتے۔ مگر ان معترضین کا منشا تو محض جھگڑے نکالنا اور کٹ حجتی کر کے حق کو روکنا تھا۔ اس لیے جان بوجھ کر ایسے معنی پیدا کرتے تھے جو مراد متکلم کے مخالف ہوں.

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت