۵۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
{ وَلَا تُجَادِلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ } (العنکبوت:۴۶)
''اور اہل کتاب کے ساتھ بحث و مباحثہ نہ کرو مگر اس طریقہ پر جو عمدہ ہو مگر ان کے ساتھ جو ان میں ظالم ہیں۔''
{ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ } ''مگر اس طریقہ پر جو عمدہ ہو'' کا کیا معنی ہے۔
وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی نَبِیِّنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی آلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ۔