فهرس الكتاب
ایبٹ نے گولڈ زیہر اور شاخت کے اس نقطہ نظر کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ احادیث کے ایک معتد بہ ذخیرہ کی اسناد نظریہ ضرورت کے تحت وضع کی گئی ہیں۔ شاخت کا کہنا تھا:
ایبٹ کا کہنا یہ ہے کہ میں نے احادیث کے جن مخطوطات (Manuscripts) پر ریسرچ کی ہے، اس کے مطابق احادیث زبانی اور تحریری دونوں صورتوں میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے نسل درنسل نقل ہوتی چلی آئی ہیں،لہٰذا ان کے بارے میںیہ دعویٰ کرنا کہ یہ دوسری یا تیسری صدی ہجری میں وضع کی گئیں، غلط ہے۔ ایبٹ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ غلط فہمی احادیث کی اسناد کے میکانزم کو نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ ایبٹ کے بقول احادیث کے متون (Texts) تو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے نسل در نسل چلے آ رہے تھے لیکن بعد کے زمانوں میں ان متون کو نقل کرنے والوں کی تعداد بڑھ جانے کی وجہ سے مختلف طبقات میں اسناد (Chains of Transmitters) کی کثرت پیدا ہو گئی: