فهرس الكتاب

الصفحة 106 من 165

ایبٹ نے گولڈ زیہر اور شاخت کے اس نقطہ نظر کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ احادیث کے ایک معتد بہ ذخیرہ کی اسناد نظریہ ضرورت کے تحت وضع کی گئی ہیں۔ شاخت کا کہنا تھا:

ایبٹ کا کہنا یہ ہے کہ میں نے احادیث کے جن مخطوطات (Manuscripts) پر ریسرچ کی ہے، اس کے مطابق احادیث زبانی اور تحریری دونوں صورتوں میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے نسل درنسل نقل ہوتی چلی آئی ہیں،لہٰذا ان کے بارے میںیہ دعویٰ کرنا کہ یہ دوسری یا تیسری صدی ہجری میں وضع کی گئیں، غلط ہے۔ ایبٹ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ غلط فہمی احادیث کی اسناد کے میکانزم کو نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ ایبٹ کے بقول احادیث کے متون (Texts) تو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے نسل در نسل چلے آ رہے تھے لیکن بعد کے زمانوں میں ان متون کو نقل کرنے والوں کی تعداد بڑھ جانے کی وجہ سے مختلف طبقات میں اسناد (Chains of Transmitters) کی کثرت پیدا ہو گئی:

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت