فهرس الكتاب

الصفحة 107 من 165

ایبٹ کی یہ بات درست ہے کہ روایات کے نقل کرنے میں متون کی اتنی کثرت نہیں ہے جتنی کہ اسناد کی ہے۔ محدثین کے نزدیک ایک ہی متن جب دس اسناد سے منقول ہو تو وہ اسے دس احادیث شمار کرتے ہیں۔ مثلًا صحیح بخاری کی روایات کی تعداد ۷۲۷۵ ہے۔ 38امام بخاری رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ انہوں نے چھ لاکھ احادیث میں سے'' صحیح بخاری'' کا انتخاب کیا ہے39۔ مستشرقین مثلًا ڈنکن مکڈونلڈ (۱۸۶۳۔۱۹۴۳ء) وغیرہ نے اسی بات کو طعن بنا لیا ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ کو چھ لاکھ میں سے ساڑھے سات ہزار احادیث ہی صحیح مل سکیں، لہٰذا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ احادیث لاکھوں کی تعداد میں گھڑی گئی تھیں40۔ جبکہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ لاکھوں روایات لاکھوں متون نہیں تھے بلکہ لاکھوں اسناد تھیں جو ہزاروں متون کو نقل کر رہی تھیں،جیسا کہ علامہ ابن جوزی رحمہ اللہ وغیرہ نے وضاحت کی ہے۔41

جیمز روبسن(James Robson)

گولڈ زیہر اور جوزف شاخت کے بعد ہمیں مغرب میں حدیث کا کوئی بڑا ناقد نظر نہیں آتا۔ اگرچہ برطانوی مستشرق الفریڈ گی آئیم Alfred Guillaume (۱۸۸۸۔۱۹۶۶ء) نے ایک کتاب"The Traditions of Islam: An Introduction to the Study of the Hadith Literature"کے نام سے لکھی لیکن مصطفی الاعظمی کے بقول وہ گولڈ زیہر کے افکار کا ہی چربہ ہے، کوئی نئی تحقیق نہیں ہے۔42 علاوہ ازیں جیمز روبسن James Robson (پیدائش ۱۸۹۰ء) کہ جس نے مشکوۃ شریف کا انگریزی زبان میں ترجمہ بھی کیا ہے، کی بھی حدیث پر کئی ایک تحریریں ملتی ہیں، لیکن وہ بھی بنیادی طور شاخت ہی سے متاثر ہے۔

روبسن نے احادیث کی سند کے نظام پر تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ عروہ بن زبیر

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت