مستشرقین کے بے بنیاد افکار میں سے ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ ائمہ محدثین نے حدیث کی سند کی چھان پھٹک تو کی ہے لیکن حدیث کے متن کی تحقیق نہیں کی جس کی اشد ضرورت ہے۔ اس کے لیے عام طورپر اردو میں 'درایت' کا لفظ استعمال ہوتا ہے کہ حدیث کی روایتًا تحقیق تو ہو گئی ہے اب درایتًا ریسرچ کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر لقمان سلفی کے مقالہ میں یہ بات بطور موضوع شامل ہے کہ محدثین نے حدیث کی چھان پھٹک روایت اور درایت یعنی سند ومتن دونوں پہلوؤں سے کی ہے۔ ڈاکٹر ضیاء العمری کا مقالہ ''موقف الاستشراق من السنۃ والسیرۃ النبویۃ'' بھی حدیث اور مستشرقین کے موضوع پر ایک اہم تحریرہے۔ انہوں نے اطالوی مستشرق لیونے کائیتانی Leone Caetani )۱۸۶۹۔۱۹۳۵ء)، ولیم میور اور اسپرنگا کے نظریات کو بھی ہدفِ تنقید بنایا ہے۔