فهرس الكتاب

الصفحة 40 من 165

جات کا مرکزی خیال تقریبًا ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ بائبل کی طرح قرآن مجید بھی کوئی مستند مذہبی کتاب نہیں ہے۔

آرتھر جیفری نے ابن ابی داؤدرحمہ اللہ کی کتاب ''کتاب المصاحف'' کو ایڈٹ کر کے شائع کیا ہے۔ اس کتاب کے شروع میں اس نے عربی مقدمے میں قرآن مجید کے بارے اپنے کئی ایک فرسودہ خیالات و نظریات کا اظہار کیا ہے۔آرتھر جیفری کی تحقیق سے مزین ''کتاب المصاحف'' ۱۹۳۷ء میں پہلی بار شائع ہوئی۔ اس اشاعت کے شروع میں اس نے اپنی کتاب"Materials"کو بھی شائع کیا۔ یہ کتاب ۶۰۹ صفحات پر مشتمل ہے۔ بعد ازاں۱۹۶۰ء، ۱۹۶۳ء اور ۱۹۷۵ء میں بھی یہ کتاب شائع ہوئی ہے۔

آرتھر جیفری کا کہنا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قرآن مجید تحریری صورت میں موجود نہیں تھا۔ اس کے الفاظ ہیں:

آرتھر جیفری

جیفری نے اپنے اس موقف کی بنیاد جس روایت کو بنایا ہے، اس کے الفاظ ہیں:

''قبض رسول الله ولم یکن القرآن جمع فی شیئ ''41

'' اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اس حال میں ہوئی کہ قرآن مجیدکسی چیز میں جمع نہیں کیا گیا تھا۔''

اس روایت میں قرآن مجید کے ایک جگہ جمع ہونے کا مسئلہ زیر بحث ہے نہ کہ کتابت کا، لہٰذا آرتھر جیفری کا استدلال درست نہیں ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت