قرآن مجید ایک کتاب کی صورت میں 'بین الدفتین' (Between Covers) جمع نہیں کیا گیا بلکہ متفرق اجزاء کی صورت میں لکھا ہوا موجود تھا۔ صحیح روایات سے یہ بات ثابت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کی زندگی میں قرآن مجید لکھا کرتے تھے۔ ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ حضرت قتادہ رحمہ اللہ نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا:
''من جمع القرآن علی عهد النبی صلی الله علیه وسلم؟ قال: أربعة، کلهم من الأنصار: أبی بن کعب ومعاذ بن جبل وزید بن ثابت وأبو زید ''42
''اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کس نے قرآن مجید جمع کیا؟ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: چار لوگوں نے اور وہ چاروں انصاری ہیں؛ ابی بن کعب، معاذ بن جبل، زید بن ثابت اور ابو زیدر ضی اللہ عنہم۔''
آرتھر جیفری کا کہنا یہ بھی ہے کہ مستشرقین کی تحقیق کے مطابق پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پڑھنا لکھنا جانتے تھے جیسا کہ رچرڈ بیل اور ٹوری Charles Cutler Torrey (۱۸۶۳۔۱۹۵۶ء) دونوں نے یہ بات کی ہے۔ اس بنیاد پر آرتھر جیفری نے دعویٰ کیا ہے کہ مغربی اسکالرز کی تحقیق کی روشنی میں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے لیے اپنی زندگی کے آخری حصے میں ایک کتاب مرتب کر رہے تھے۔ اس کے الفاظ ہیں: