فهرس الكتاب

الصفحة 42 من 165

جیفری کے علاوہ منٹگمری واٹ کا بھی یہ دعوی ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پڑھنا لکھنا جانتے تھے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ آپ ایک تاجر تھے اور تجارت کے پیش نظر آپ کو حساب کتاب کے لیے پڑھنے لکھنے کی ضرورت تھی لہٰذا آپ پڑھے لکھے تھے۔ قرآن مجید میں آپ کے لیے 'أُمی' کا جو لفظ استعمال ہوا تو منٹگمری واٹ کے نزدیک اس سے مراد 'غیر یہودی' ہے نہ کہ ان پڑھ۔44

مستشرقین کی یہ بات درست نہیں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پڑھنا لکھنا جانتے تھے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

[وَمَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّلَا تَخُــطُّهٗ بِيَمِيْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ 48؀] 45

'' اور آپ اس سے پہلے نہ تو کوئی کتاب پڑھتے تھے اور نہ ہی اپنے داہنے ہاتھ سے لکھتے تھے۔ اگر ایسا ہوتاتوقرآن کاانکار کرنے والے ضرور شک میں پڑ جاتے۔''

اگر تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پڑھنا لکھنا جانتے ہوئے تو مشرکین مکہ اس آیت کو سنتے ہی شور مچا دیتے۔ اس آیت کی قرآن مجید میں موجودگی اس بات کا بین ثبوت ہے کہ آپ پڑھنا لکھنا نہیں جانتے تھے۔ البتہ یہ واضح رہے کہ 'پڑھنا لکھنا' ایک فن ہے،علم نہیں۔ ایک شخص جو پڑھ لکھ سکتا ہو، جاہل ہوسکتا ہے جیسا کہ ہمارے ہاں بینرز لکھنے والے عمومًا اصحاب علم میں سے نہیں ہوتے ہیں۔ اسی طرح ایک شخص جو پڑھنا لکھنا نہ جانتا ہو، عالم ہو

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت