دیگر اقوام کے مذاہب، افکار، معاشرت اور اقتصادیات کے بارے میں جاننے کی ایک فطری خواہش تقریبًا ہر انسان میں موجود ہے۔ تحریک استشراق کے محرکات میں سے ایک اہم محرک یہی فطری خواہش تھی کہ جس نے اہل مغرب کو مشرق، مشرقی تہذیب اور مشرقی علوم وفنون کے بارے میں جاننے کے لیے ابھارا۔39
تاریخی محرکات (Historical Motives)
مشرق ومغرب کے باہمی تعلقات زمانہ قدیم سے چلے آ رہے ہیں۔ ان کے مابین وقتًا فوقتًا فکری مکالمہ اور عسکری مہم جوئی ہوتی رہی ہے۔ یہ فکری وعسکری نزاع بھی اہل مغرب کے لیے ایک اہم محرک بنا ہے کہ وہ مشرق کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جانکاری حاصل کریں یا اس کے لیے کوشش کریں۔ 40
دینی محرکات (Religious Motives)
چرچ اور اس کے متولیوں کی ایک بڑی تعداد نے اسلام کا چہرہ مسخ کرنے کے لیے اور اس سے متعلق حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کے لیے مشرقی علوم وفنون کی طرف توجہ دی۔ علاوہ ازیں استشراق کے دینی محرکات میں عیسائی عوام کی اسلام کی طرف رغبت کو روکنا اور مسلمانوں کو عیسائی بنانا بھی شامل تھا۔اسی طرح مصادر اسلامیہ یعنی کتاب وسنت میں تشکیک پیدا کرنے میں یہودی مستشرقین کی ایک جماعت نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان یہودی مستشرقین میں گولڈ زیہر Goldziher (۱۸۵۰۔۱۹۲۱ء) ، نولڈیکے Theodor Noldeke (۱۸۳۶۔۱۹۳۰ء) ، رچرڈ بیل Richard Bell (۱۸۷۶۔۱۹۵۲ء) ، ریجس بلیشے Regis Blachere (۱۹۰۰۔۱۹۷۳ء) اور ویلہاؤزن Wellhausen (۱۸۴۴۔۱۹۱۸ء) وغیرہ شامل ہیں۔
استعماری محرکات (Imperialistic Motives)
انیسویں صدی عیسوی میں تقریبًا تمام عالم اسلام مغربی استعمار کا حصہ بن گیا۔ مشرق پر اپنے غلبہ کو برقرار رکھنے کے لیے حاکم قوتوں نے مشرق کے علوم وفنون اورتاریخ ولغات