ہمارے پاس اس کتاب کا جو نسخہ ہے وہ ۱۹۰۵ء میں نیویارک سے شائع ہوا ہے۔ کتاب۱۳ ابواب اور ۴۸۱ صفحات پر مشتمل ہے۔ مارگولیتھ کا بھی اپنے پیش روؤں کی تقلید میں نقطہ نظر یہی ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خوابوں کو حقیقت سمجھ لیا تھااور جو کچھ وہ خواب میں دیکھ رہے تھے، اسے اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا فرشتہ یا کتاب سمجھ رہے تھے ۔ اور اس بنیاد پر اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کر رہے تھے۔ اس نے اپنی کتاب میں"CHAPTER III FIRST DREAMS OF INSPIRATION: ENDING IN THE CONVICTION THAT HE WAS THE PROPHET OF HIS PEOPLE"کے عنوان سے باب باندھا ہے29۔اس نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر معراج کو بھی ایک خواب قرار دیا:
اس کا کہنا یہ بھی ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسائیت کے بارے میں زیادہ تر معلومات سفرشام کے دوران وہاں سے حاصل کیں اور انہیں قرآن مجید میں شامل کیا:
مدینہ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر مہر علی نے اس کے نظریات کا کافی وشافی رد اپنی