فهرس الكتاب

الصفحة 135 من 165

نکلسن نے اپنی تاریخ کے جو مصادر بیان کیے ہیں، ان کے متعصب (biased) ہونے میں کوئی کلام نہیں ہے۔ خلافت راشدہ اور بنوامیہ کی خلافت کے بارے اس کا خیال ہے کہ بنوعباس کی خلافت کے مقابلے میں یہ کسی حد تک بنجر اور فارغ دورِ حکومت تھا کیونکہ بنوعباس ہی نے پہلی بار ایرانیوںکو اپنے قریب کیا اور ان کی تہذیب وتمدن اور علوم وفنون کو اسلامی افکار میں مناسب جگہ دی۔ اس کے الفاظ ہیں:

ایک اور جگہ اس نے لکھا ہے:

وہ ایک طرف بنوعباس کی روشن خیالی کی وجہ سے ان کی تعریف کرتا ہے تو دوسری طرف بنوامیہ کے بارے اس کا کہنا یہ ہے کہ ان میں رَتی برابر بھی دین موجود نہیں تھا:

لیکن بنوامیہ ہو یا بنوعباس وہ دونوں کی حکومتوں کو استبدادی حکومت قرار دیتا ہے۔

نکلسن کا یہ دعویٰ درست نہیں ہے کہ اسلامی روایات ہمیں یہ بتلاتی ہیں کہ بنوامیہ کا دین سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ بنوامیہ میں اگرچہ وہ دینداری نہیں تھی جو خلفائے راشدین

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت