برنارڈ لیوس کو مغرب میں مشرق وسطی کی تاریخ پرایک سند کی حیثیت سے پڑھا جاتا ہے۔ اس کے اثر ورسوخ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بش انتظامیہ اپنے دور حکومت میں اس کے مشوروں سے پالیسی مرتب کرتی تھی۔ اسے 'The most influential postwar historian of Islam and the Middle East' کا ٹائٹل بھی دیاگیا۔
فلسطینی نژاد پروٹسٹنٹ مستشرق ایڈورڈ سعید Edward Said )۱۹۳۵۔۲۰۰۳ء) نے برنارڈ لیوس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سعید کی کتاب"Orientalism"اپنے موضوع پر ایک مصدر کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کتاب نے یورپ میں تحریک استشراق کو دیکھنے کا تناظر ہی بدل ڈالا۔ ایڈورڈسعید اور برنارڈ لیوس کے مابین تقریبًا پچیس سال تک زبردست قلمی مکالمہ (bloody academic battle) ہوا ۔ ان دونوں کے اثر