کی زندگی میں پیش آنے والے حالات وواقعات میں حد درجہ مماثلت ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ایک کامیاب زندگی کے حصول میں موقع بموقع حالات کے مطابق وحی گھڑتے رہتے تھے اور اپنے متبعین کو یہ باور کراتے رہے کہ یہ آسمانوں سے خدا کی طرف سے نازل ہو رہی ہے۔ ٹزڈال کے الفاظ ہیں:
ٹزڈال کا یہ اعتراض نہایت ہی سطحی ہے کیونکہ قرآن مجید کی آیات کا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احوالِ زندگی سے موافق ہونے کی وجہ بالکل واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر اور ان کے متبعین کی رہنمائی چاہتے ہیں لہٰذا آپ اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی جماعت کو جس طرح کے حالات ومسائل کا سامنا تھا، اُسی کے مطابق وحی نازل ہوتی رہی۔ یہ تو کسی کلام کا نقص شمار ہو گا کہ اس میں مستقبل کی رہنمائی تو ہو لیکن قوم کو درپیش حالیہ آزمائشوں سے نکلنے کا کوئی رستہ تجویز نہ گیا ہو۔ کیا خدا کے کلام کے بارے ہم ایسا سوچ بھی سکتے ہیں کہ وہ جس دور اور قوم میں نازل ہو رہا ہو اس دور اور قوم دونوں کے مسائل کو یکسر نظر انداز کر دے۔ پس قرآن مجید میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی جماعت کو درپیش مسائل سے مسلسل