فهرس الكتاب

الصفحة 64 من 165

نسبت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف کر دی تا کہ اس بہانے قرآن مجید میں اپنی آراء داخل کر سکیں۔ اس کے الفاظ ہیں:

اس کے بقول مسلمان علماء نے عرضہ اخیرہ (Last Revision of the Prophet with Gibreel) میں بہت سی قرا ء ات کو منسوخ قرار دیا ہے۔نسخ کا تصور گھڑنے کے بعد انہی فقہاء نے یہ کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی میں اس لیے قرآن مجید کو ایک کتابی صورت نہیں دے سکے کہ وحی نازل ہو رہی تھی اور ابھی نسخ کا امکان موجود تھا۔ اس کے الفاظ ہیں:

قرآن مجید کے بارے مستشرقین کی تحقیقات کے نتائج میں اس قدر اختلاف تضاد (Contradiction) یہ ثابت کرتا ہے کہ ان کی رائے درست نہیں ہے۔ قرآن مجید کے زمانہ نزول ہی سے اس کے مخالفین اس کے بارے کوئی ایک موقف پیش کرنے سے قاصر رہے ہیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کسی مشرک نے وحی قرآنی کو شعر کہا تو کسی نے اسے کہانت سے تشبیہہ دی۔ کسی نے لوک کہانیوں قرار دیا تو کسی نے عجمی غلام کے

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت