فهرس الكتاب

الصفحة 75 من 165

یہودیت، عیسائیت اور عرب مشرکین کو بیان کیا ہے۔ اس کے الفاظ ہیں:

مستشرقین جہاں انجیل یا عیسائیت کو اسلام اور قرآن مجید کا ایک مصدر گردانتے ہیں تو وہاں ان کے لیے ایک سوال یہ ہے کہ عیسائیت تو مکہ یا اس کے گردونواح میں موجود نہیں تھی تو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسائی عقائد کہاں سے معلوم کیے ؟ پس جب عیسائی موجود نہیں تھے تو انجیل کہاں سے ہو گی؟ رچرڈ بیل نے کہا ہے کہ اگرچہ ایسی تاریخی روایات تو ملتی ہیں کہ بیت اللہ کی دیوار پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تصویر موجود تھی لیکن اس بات کے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں کہ مکہ یا اس کے گرد ونواح میں عیسائی موجود تھے:

ڈاکٹر ہاملٹن گِب Hamilton Alexander Rosskeen Gibb (۱۸۹۵۔۱۹۷۱ء) نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ مکہ سے تجارتی قافلے یمن جایا کرتے تھے اور دونوں شہروں میں ایک باہمی تجارتی تعلق بھی موجود تھا۔ انہی قافلوں کے ذریعے عیسائی تعلیمات وافکار مکہ پہنچے اور انہیں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کتاب قرآن مجید میں ایڈجسٹ کیا۔اس کا کہنا یہ ہے کہ قرآن مجید کے ذخیرۂ الفاظ سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ یمن کے عیسائی افکار تجارتی قافلوں کے رستے مکہ پہنچ چکے تھے:

قرآن مجید بہت سے مقامات پر اناجیل (Gospels) کی مخالفت کرتا ہے جیسا کہ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت