آسان الفاظ میں آسمانی پیغام نہ تھابلکہ یہ ان کے اپنے نفس، وجود اور شعور کی گہرائیوں سے پیدا ہونے والے چند پیغامات تھے۔ وحی کی حقیقت کے بارے میں اس قسم کے خیالات کا اظہار ہاملٹن گِب نے کیا ہے۔ گِب نے وحی قرآنی کو 'Muhammad's Utterances' قرار دیا۔ اس کا کہنا یہ بھی ہے کہ مکی قرآن کا اسلوبِ بیان کاہنوں سے ملتا جلتا ہے اور مشرکین مکہ کے طعنہ دینے پر کہ وہ ایک کاہن ہیں،پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا اسلوب تبدیل کر لیا:
اس نے یہ بھی لکھا ہے کہ خداخوفی یا آخرت کا ڈر ایک ایسا ہتھیار تھا جسے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم آخر دم تک اپنے مخالفین کو دھمکانے کے لیے استعمال کرتے رہے: