اس نے حالت وحی کو مرگی کی حالت سے تشبیہہ دی ہے اور بعض نے تو اسے ہسٹیریا قرار دیا ہے۔ بعض مستشرقین کا کہنا یہ ہے کہ وحی کی کیفیت کے دوران آپ کا جسم بھاری ہوجاتا،پسینے چھوٹ جاتے اور آپ پر نیند کی سی کیفیت طاری ہو جاتی اور آپ اپنے آپ کو پہاڑ سے گرانے کی کوشش کرتے۔
رایسٹن پائیک Royston Pike کا کہنا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو عجیب وغریب آوازیں سنائی دیتی تھیں، بعض اوقات وہ کانپنا بھی شروع ہو جاتے تھے، سخت سردی میں انہیں پسینہ آ جاتا:
انسائیکلو پیڈیا آف اسلام کے مصنف الفرڈ ویلچ Alford T. Welchکا خیال ہے کہ قرآن مجید پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے فکری ارتقاء کا دوسرا نام ہے:
روڈنسن نے قرآن مجیدکو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سمعی بصری خطائے حس (Auditory Visual Hallucination) قرار دیا۔57
سوال تو یہ ہے کہ کیا مرگی، ہسٹیریا، جنون وغیرہ جیسی نفسیاتی عوارض کا حامل شخص،